12

پاکستان کوآئی ایم ایف سے قرض کی ادائیگی میں بڑا ریلیف مل گیا

اسلام آباد(عباس ملک سے )  پاکستان سمیت 76 ترقی پزیرممالک کوآئی ایم ایف سے قرض کی ادائیگی میں بڑا ریلیف مل گیا ہے۔پاکستان کی کامیاب معاشی سفارت کاری کے ثمرات کے حوالے سے وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا عالمی وبائی صورتحال نے ترقی پذیرممالک کی معیشتوں کوبری طرح متاثرکیا ہے، اسی صورت حال کے پیش نظروزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری سے ترقی پذیرممالک کیلئے 12 اپریل کواپیل کوخطوط کے ذریعے ارسال کیا گیا تھا۔وزیرخارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، عالمی برادری ، عالمی معاشی اداروں سے اپیل کی تھی کہ اس کورونا وائرس نے پوری عالمی معیشت کومتاثرکیا ہے لیکن ترقی مزید ممالک کی معیشتوں کو بری طرح نقصان پہنچ رہا ہے۔ ترقی پذیرممالک کی برآمدات متاثرہورہی ہیں، زرمبادلہ کی شرح میں کمی واقع ہورہی ہے جس کی وجہ سے غربت اور بیروزگاری مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ان حالات میں ضرورت اس امرکی ہے کہ ترقی پذیرممالک کے واجب الادا قرضوں میں سہولت فراہم کی جائے تاکہ یہ ممالک اپنے وسائل اپنے ہیلتھ سسٹم کو بہتربنانے، روزگاراورقیمتی انسانی جانوں کوبچانے کیلئے بروئے کارلاسکیں۔وزیرخارجہ نے بتایا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے اس تجویزکی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری سوچ کے عین مطابق ہے۔ آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹراورورلڈ بینک نے بھی اس تجویز کی توثیق کی جب کہ کل جی 20 ممالک نے بھی اس تجویز کی توثیق کی۔ پاکستان نے ترقی پذیرممالک کی معیشتوں کو سہارا دینے کا جو بیڑہ اٹھایا تھا اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیابی سے سرفراز کیا ہے۔وزیرخارجہ نے بتایا کہ قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کے اس اقدام سے پاکستان سمیت 76 ترقی پذیرممالک کو قرضوں میں سہولت میسر آئے گی اور اربوں ڈالرز کا فائدہ ہوگا۔ قرضوں میں یہ سہولت، ابتدائی طورپرایک سال کیلئے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کا اطلاق یکم مئی سے شروع ہوگا۔ پاکستان اپنے ریونیوکا ایک تہائی حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کرتا ہے قرضوں کی ادائیگی میں سہولت ملنے سے پاکستان کوبہت فائدہ حاصل ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں