کابل: افغانستان میں طالبان نے سکیورٹی چیک پوسٹ پر دھاوا بول کر 11 افغان اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ واضح رہے کہ طالبان اور امریکا کے درمیان افغان امن معاہدے کے باوجود تاحال امن بحال نہیں ہوسکا ہے، افغان صدر نے طالبان اسیروں کی رہائی کو معطل کردیا ہے اور طالبان کے افغان سکیورٹی اہلکاروں پر حملے جاری ہیں۔ افغان رساں ادارے کے مطابق صوبے غور کی چیک پوسٹ پر افغان طالبان نے ایک مرتبہ پھر افغان سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔  خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان نے پہلے دستی بم پھینکے اور پھر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے جواب میں افغان اہلکاروں نے بھی مزاحمت کی۔ دونوں جانب سے کئی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا جس کے دوران 11 اہلکار ہلاک اور 6 شدید زخمی ہوگئے جب کہ افغان حکام نے جوابی کارروائی میں 20 طالبان جنگوؤں کے مارے جانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ضلعی گورنر محمد کبیری نے صحافیوں کو بتایا کہ 20 طالبان کی ہلاکت کے بعد جنگجوؤں کی کمر ٹوٹ گئی اور وہ بھاگ گئے تاہم فرار ہوتے ہوئے 2 فوجی گاڑیوں کو نذر آتش کرگئے اور ایک گاڑی کو اپنے ہمراہ لے گئے۔